صاحب فراش

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - وہ بیمار جو چلنے پھرنے کے قابل نہ ہو اور بستر پر لیٹا رہے۔ "ایک صاحب سفر پہ گئے ہوئے ہیں اور دوسرے . صاحب فراش ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٢٤٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے مرکبِ اضافی ہے۔ عربی اسم فاعل 'صاحب' بطور مضاف کے ساتھ کسرۂ اضافت لگا کر عربی ہی سے اسم مشتق 'فراش' بطور مضاف الیہ ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٣٦ء کو "ریاض البحر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ بیمار جو چلنے پھرنے کے قابل نہ ہو اور بستر پر لیٹا رہے۔ "ایک صاحب سفر پہ گئے ہوئے ہیں اور دوسرے . صاحب فراش ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٢٤٠ )